بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز میں سورہ فاتحہ اور سورۃ پڑھنے سے قبل بسم اللہ پڑھنا

سوال

پنج وقتہ نماز کی ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ اور سورۃ فاتحہ کے بعد جو سورت پڑھی  جاتی ہے،   اس کے شروع میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھنا چاہیے یا نہیں؟

جواب

نماز میں سورہ فاتحہ سے پہلے بسم اللہ پڑھنا مسنون ہے، جب کہ  سورہ فاتحہ کے بعد سورت پڑھنے سے پہلے  بسم اللہ پڑھنا مستحب ہے، فرض یا واجب نہیں، لہذا صورت مسئولہ میں  سورہ فاتحہ سے پہلے اور اس کے بعد تلاوت شروع کرنے سے قبل بسم اللہ الرحمن الرحیم  پڑھنے کا معمول  رکھا جائے، تاہم اگر کبھی رہ جائے، تو اس سے نماز  مکروہ نہیں ہوگی۔

البحر الرائق شرح كنز  الدقائق میں ہے:

"إن سمی بين الفاتحة و السورة كان حسناً عند أبي حنيفة".

(كتاب  الصلاة، فصل: إذا أراد الدخول في الصلاة كبر، ١/ ٣١٢، ط: سعيد) 

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144512100051
تاریخ08-06-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں