بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ذو الحجہ کے ایام میں بیوی کے پاس جانے کا حکم

سوال

کیا ذو الحجہ کے ایام میں  بیوی کے پاس جا سکتے ہیں ؟

جواب

جا سکتے ہیں ،میاں بیوی کو ازدواجی تعلقات کی ہر وقت اجازت ہے ،سوائے اس کے  کہ عورت  حیض  یا  نفاس میں ہو ،یا کوئی ایک  روزہ  یا  اعتکاف یا احرام  کی حالت میں ہو۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(يمنع صلاة) مطلقًا و لو سجدة شكر (و صومًا) و جماعًا. (قوله: يمنع) أي الحيض و كذا النفاس، خزائن."

(کتاب الطہارۃ،باب الحیض ،ج:1،ص:290،ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

"‌‌(إذا أكل الصائم أو شرب أو جامع) حال كونه (ناسيا) في الفرض و النفل قبل النية أو بعدها على الصحيح."

(کتاب الصوم،ج:2،ص:394،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144512100033
تاریخ08-06-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں