بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عید کی نماز مسجد میں پڑھنا

سوال

بلا عذر عید کی نماز مسجد میں پڑھنا کیسا ہے ؟۔

 

جواب

صورت مسئولہ  میں  عید گاہ کی موجود گی میں بلا عذر مسجد میں عید کی نماز ادا کرنے کی صورت میں  سنت کا ترک کرنا لازم آۓ گا ، البتہ عید کی نماز صحیح ہو جائے گی، لیکن اگر کسی جگہ عذر کی وجہ سے عید کی نماز مسجد میں ادا کی جارہی ہےتو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔

البحرالرائق میں ہے:

"وإن كانت صلاة العيد واجبة حتى لو صلى ‌العيد ‌في ‌الجامع، ولم يتوجه إلى المصلى فقد ترك السنة."

(كتاب الصلوة،باب العيدين،الخروج إلى الجبانة يوم العيد،171/2،ط:دار الكتاب الإسلامي)

تنویر الابصار مع الدر المختار میں  ہے"

"(‌والخروج ‌إليها) ‌أي ‌الجبانة ‌لصلاة ‌العيد (سنة وإن وسعهم المسجد الجامع) هو الصحيح."

(کتاب الصلاۃ،باب العیدین،169/3،ط: سعید) 

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144511102702
تاریخ06-06-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں