بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روسلان نام رکھنے کا حکم

سوال

اللہ نے ہمیں بیٹے سے نوازا ہے،  کیا اس کا نام روسلان رکھ سکتے ہیں؟

جواب

روسلان  یہ سلاوی زبان کا لفظ "رسی " سے ماخوذ ہے ،جس کا مطلب "مشہور "اور  "شاندار"کے آتے ہیں،  سلاوی ممالک (روس ،یوکرین،بلغاریہ ،پولینڈ وغیرہ )میں یہ نام لڑکوں کا رکھا جاتا ہے، لیکن مسلمانوں میں یہ نام معروف نہیں ہے؛ اس لیے یہ نام رکھنا مناسب نہیں ہے۔

البتہ رَسلان نام مسلمانوں میں معروف ہے جو  کہ ارسلان (اصل میں ترکی زبان کا لفظ ہے) کا مخفف ہے، اس کا معنی شیر کے آتے ہیں، یہ نام رکھ سکتے ہیں۔بہتر یہی ہے کہ انبیاء کرام یا صحابہ کرام کے ناموں میں سے کوئی نام رکھ لیا جائے ۔

تاج العروس میں ہے:

"وقولهم: أسلان للأسد عجمية، أصله ‌إرسلان، وقد سموا بها كثيرا، ومنهم من يحذف الألف ويقول رسلان."

(ج:35،ص:215،ط:دار الہدایۃ)

فتاوی عالمگیریہ میں ہے:

"وفي الفتاوى التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عباده ولا ذكره رسول الله صلى الله عليه وسلم و لا استعمله المسلمون تكلموا فيه والأولى أن لايفعل، كذا في المحيط."

(کتاب الکراہیۃ ،باب ثانی و عشرون ج،5، ص 362،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144511102604
تاریخ05-06-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں