بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ٹیلی ویژن انڈسٹری میں نوکری کرنے کاحکم

سوال

ٹیلی ویژن انڈسٹری میں انجینئر کی جاب(نوکری) حرام ہے یا حلال؟

جواب

صورت ِمسئولہ میں ٹیلی ویژن انڈسٹری میں کسی قسم کی  نوکری کرنا جائز نہیں ،کیوں کہ اس میں گناہ کی معاونت ہے، اور گناہ کےکام  میں تعاون کرنا بھی گناہ ہے اور نیزسائل کو جو تنخواہ  ملے گی وہ بھی حرام  آمدن سے ملے گی،  وہ تنخواہ حلال نہیں ہوگی۔

قرآن کریم  میں ہے:

"وَتَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ. "(المائدة، الآیۃ: 2)

ترجمہ:"اور نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی اعانت کرتے رہو اور گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی اعانت مت کرو "(از بیان القرآن)

البحرالرائق میں ہے:

"و في فتاوى أهل سمرقند: استأجر رجلًا لينحت له مزمارًا أو طنبورًا أو بربطًا ففعل يطيب له الأجر إلا أنه يأثم في الإعانة على المعصية."

(البحر الرائق: كتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة (8/ 23)، ط. دار المعرفة، بيروت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144511102536
تاریخ04-06-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں