بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صرف فون پر بتانے سے آدمی رضاعت کا گواہ بن سکتا ہے یا نہیں؟

سوال

اگر  بیوی نے اپنے شوہر کو فون پر بتایا کہ میں نے کسی کو دودھ پلایا  ہے ، دودھ پلایا  ہو یا نہ ہو مگر اس کو بتایا تو کیا  شوہر کی گواہی اس رضاعت میں قبول  ہوگی یا نہیں؟

جواب

  صورت ِمسئولہ میں شوہر کی گواہی اس رضاعت میں معتبر نہیں ہے،اس لیے کہ صرف فون پر بتانے سے  آدمی شرعی گواہ نہیں بن سکتا ہے،جب تک کہ اس معاملہ کا مشا ہدہ نہ کرے۔

فتاوی شامی میں  ہے:

"(ولا) يشهد أحد (بما لم يعاينه) بالإجماع (إلا في) عشرة على ما في شرح الوهبانية: منها العتق والولاء عند الثاني والمهر على الأصح بزازية و (النسب والموت والنكاح والدخول) بزوجته (وولاية القاضي وأصل الوقف)."

(کتاب الشھادات، 470/5،ط،دار الفکر)

فتح القدیر میں ہے:

"وفي الفتاوى: إذا أقرت المرأة من وراء حجاب لا يجوز لمن سمع أن يشهد على إقرارها إلا إذا رأى شخصها."

(کتاب الشھادات ،فصل ما يتحمله الشاهد على ضربين،385/7،ط،دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144511102120
تاریخ31-05-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں