بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ڈھائی فی صد زکوٰۃ کے ساتھ زیادہ ادا کرے تو زائد رقم کی کیا مد ہو گی؟

سوال

کوئی شخص اگر اپنی ڈھائی فی صد زکوٰۃ کے ساتھ زیادہ ادا کرےتو زائد رقم کی کیا مد ہو گی؟

جواب

زکوٰۃ کی متعین (ڈھائی فی صدکی)مقدار سے زائد جو رقم دی جائے وہ نفلی صدقہ کی مد میں شمار ہوگی۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(هي) لغة الطهارة والنماء، وشرعا (تمليك)....جزء مال) خرج المنفعة، فلو أسكن فقيرا داره سنة ناويا لا يجزيه (عينه الشارع) وهو ربع عشر نصاب حولي خرج النافلة والفطرة."

(کتاب الزکوٰۃ، 2/ 256، ط:سعید)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144511102075
تاریخ30-05-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں