بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صرف لا الٰہ کا ورد کرنے کا حکم

سوال

بچوں کو سلاتے ہوۓ لا الہ کہنا اور الا اللہ نہ کہنے کاحکم ،اس طور پر کہ مطلب ذہن میں نہ ہو، کیا اس آدھے جملے میں اللہ کی نفی ہے ؟

جواب

(لا اِلٰہ) کا معنی ہے "کوئی بھی معبود نہیں"جب تک کہ اس کے ساتھ(اِلّا اللہ )نہ ملایا جائے، تب تک تو اس میں اللہ تعالیٰ کی بھی نفی پائی جاتی ہے،لہذا  صورت مسئولہ میں صرف (لا اِلٰہ)کا ورد کرنا اور (اِلّا اللہ )کو چھوڑدینا درست نہیں۔پورا کلمہ دہرانے کا اہتمام کیا جائے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144511102008
تاریخ29-05-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں