بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا چھ تولہ آٹھ ماشہ سونے پر زکات واجب ہوتی ہے؟

سوال

چھ تولہ آٹھ ماشہ سونے پر زکات واجب  ہے یا نہیں ،اگر ہے تو کتنی  ہوگی؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر کسی کی ملکیت میں صرف چھ تولہ آٹھ ماشہ سوناہے،اس کے ساتھ چاندی ، نقدی یا مال تجارت وغیرہ نہیں ہےتو صرف چھ تولہ آٹھ ماشہ سونے پر زکات واجب نہیں ہوتی،کیوں کہ وہ نصاب کے برابر نہیں،اور اگر چھ تولہ آٹھ ماشہ سونے کے ساتھ چاندی ،نقدی یامال تجارت موجود ہیں،تو چوں کہ مجموعی مالیت چاندی کے نصاب سے زائد ہوجاتی ہے،اس لیےسونااور دیگر اشیاءچاندی، نقدی،  مالِ تجارت سب کی مجموعی مالیت پر زکات لازم ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(نصاب الذهب عشرون مثقالا والفضة مائتا درهم كل عشرة) دراهم (وزن سبعة مثاقيل)."

(کتاب الزکاۃ،باب زکات المال،295/2،ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

"(و) يضم (الذهب إلى الفضة) وعكسه بجامع الثمنية (قيمة) وقالا بالإجزاء، فلو له مائة درهم وعشرة دنانير قيمتها مائة وأربعون تجب ستة عنده وخمسة عندهما."

(کتاب الزکات،باب زکاۃ المال،303/2،ط:سعید)
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144511101989
تاریخ29-05-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں