بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

10 ذی الحجہ کی رمی کے بعد دعا مسنون نہیں ہے

سوال

10 ذی الحجہ کو شیطان کو کنکریاں مارنے کے بعد دعا کرنا سنت ہے یا نہیں؟

جواب

واضح ہو کہ جس رمی (شیطان کو کنکری مارنا) کے بعد دوسری رمی ہو، اُس رمی کے بعد ٹھہرنا اور دعا کرنا مسنون ہے،  اور جس رمی کے بعد دوسری رمی نہ ہو، اُس رمی کے بعد ٹھہرنا اور دعا کرنا مسنون نہیں ہے۔

صورتِ  مسئولہ میں 10 ذی الحجہ کی رمی  کے بعد دعا کرنا مسنون نہیں ہے۔

اللباب في شرح الكتاب میں ہے:

" ثم أفاض الإمام والناس معه قبل طلوع الشمس حتى يأتوا منى فيبتدئ بجمرة العقبة فيرميها من بطن الوادي بسبع حصياتٍ مثل حصى الخذف، ويكبر مع كل حصاةٍ ولا يقف عندها."

و فيه أيضا:

"ولا يقف عندها) لأنه لا رمي بعدها، والأصل أن كل رمي بعده رمي يقف عنده، ويدعو، وما ليس بعده رمي لا يقف عنده، والأصل في ذلك فعل النبي صلى الله عليه وسلم."

(كتاب الحج، ج1، ص190، 191، المكتبة العلمية)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144511101888
تاریخ28-05-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں