بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

انسان کی پوجا کرنے کا کہنا،کیا کفریہ لفظ ہے؟

سوال

زینب نے فاطمہ سے کہا کیا کر رہی تھی ؟ (فاطمہ دراصل بیٹھی ہوئی تھی بکر کےساتھ ) فاطمہ نے کہا : اس کی ( بکر ) پوجا کررہی تھی ، تو ہندہ نے فاطمہ کو تنبیہ کے طور پر کہا کہ یہ جملہ غلط ہے، تو فاطمہ نے کہا نہیں یہ تو اردو کا لفظ ہے کوئی غلط نہیں ہے انگلش میں بھی تو ہم pray کا لفظ استعمال کرتے ہیں ،عرض یہ ہے کہ فاطمہ کے لے کیا حکمِ شرعی ہوگا؟

جواب

پوجا  کا لفظ جس طرح عبادت اور پرستش کے معنیٰ میں استعمال ہوتا ہے اسی طرح سیوا اور خدمت وغیرہ کے معنیٰ میں بھی مستعمل ہے(بحوالہ فیروز اللغات اردو،ص307،ط؛فیروز سنز)،لہذا  مذکورہ الفاظ کفریہ تو نہیں ہیں، لیکن عبادت اور بندگی کے معنیٰ میں غالب  اور کثیرالاستعمال ہونے  کی وجہ سےکسی مسلمان کی شان کے مناسب بھی نہیں ہیں  اس لیے آئندہ ایسے الفاظ کہنے سے اجتناب کرنا لازم ہے۔

الدرالمختار  وحاشیہ ابن عابدین میں ہے:

"(و) اعلم أنه (لا يفتى بكفر مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن أو كان في كفره خلاف، ولو) كان ذلك (رواية ضعيفة) كما حرره في البحر، وعزاه في الأشباه إلى الصغرى. وفي الدرر وغيرها: إذا كان في المسألة وجوه توجب الكفر وواحد يمنعه فعلى المفتي الميل لما يمنعه، ثم لو نيته ذلك فمسلم ."

( کتاب الجہاد ، باب المرتدج4،ص229،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144511101807
تاریخ28-05-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں