بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قراءتِ حدیث کے وقت حدیث کی عبارت سننا

سوال

دورہ حدیث کی کلاس میں طالب علم حدیث کی عبارت پڑھ رہے ہوں، اُس کا سننا کیسا ہے ؟

جواب

اگر سوال کا مقصد یہ ہے کہ دورہ حدیث کی درس گاہ میں موجود طلبہ کے لیے عبارت کا سننا کیسا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ طلبہ کے لیے اس عبارت کا سننا ضروری ہے۔

اور اگر سوال کا مقصد  یہ ہے کہ  دورۂ حدیث کے طلبہ کے علاوہ افراد  کے لیے عبارت کا سننا کیسا ہے تو  اس کا اصولی جواب یہ ہے کہ  جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات  اور  فرمودات سننا باعثِ اجر ہے، تاہم دورۂ حدیث میں درسِ حدیث کا انداز عالمانہ ہوتا ہے، نیز سردِ احادیث کی وجہ سے باب سے متعلق مختلف نوعیت کی احادیث آتی ہیں اس لیے اس درجے کا درس سننے کے لیے مطلوبہ استعداد ضروری ہے، عام  آدمی  میں یہ استعداد نہیں ہوتی، نیز بعض مرتبہ دیگر عوارض کی وجہ سے بھی  مدارس میں انتظامی طور پر خارجی شخص کا سبق سننا ممنوع ہوتا ہے، ایسی صورت میں   مدرسے  کے  ضابطے کا خیال رکھنا بھی ضروری ہو گا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144511101787
تاریخ28-05-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں