بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حاملہ جانور کی قربانی کا حکم

سوال

حاملہ جانورجس کےحمل کاعلم ہو، کیا اس کی قربانی جائز ہے؟

جواب

حاملہ جانور کی قربانی کرنامنع نہیں ہے، البتہ اگر ولادت کا زمانہ قریب ہو تو مکروہ ہے،  ذبح کے بعد اگر بچہ زندہ نکلے تو اس کو بھی ذبح کیا جائے گا اور اس کا کھانا حلال ہوگا اور اگر بچہ مردہ  پیدا ہوا یا ذبح سے پہلے ہی  مرگیا تو  اس کا  گوشت کھانا حرام ہے۔

فتاوی سراجیہ میں ہے:

"يكره ذبح الشاة الحامل إذا كانت مشرفةً على الولادة."

(کتاب الأضاحی،ج:1،ص:90،ط:سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"شاة أو بقرة أشرفت على الولادة، قالوا: يكره ذبحها؛ لأن فيه تضييع الولد."

(كتاب الذبائح،ج:5،ص:287،ط:دار الفکر) 

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144511101755
تاریخ27-05-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں