بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بھینس کی بچے(کٹے) کی قربانی کاحکم

سوال

 کیا بھینس کی  بچے(کٹے) کی قربانی کرنا  جائز ہے؟

جواب

   بھینس اور بھینسا، گائے ہی کی ایک قسم ہے لہذابھینس کی بچے(کٹے)  کی قربانی جائز ہے بشرط یہ ہے کہ وہ دو سال کی عمر کا ہوچکا ہو۔

فتح القدیر میں ہے:

"ويدخل في البقر الجاموس لأنه من جنسه"

( کتاب الأضحیة، ج:9، ص:519، ط:دار الفكر، بيروت)

الفتاوى الهندية میں ہے:

"(وأما سنه) فلايجوز شيء مما ذكرنا من الإبل والبقر والغنم عن الأضحية إلا الثني من كل جنس وإلا الجذع من الضأن خاصةً إذا كان عظيماً، وأما معاني هذه الأسماء فقد ذكر القدوري: أن الفقهاء قالوا: الجذع من الغنم ابن ستة أشهر، والثني ابن سنة۔ والجذع من البقر ابن سنة، والثني منه ابن سنتين. والجذع من الإبل ابن أربع سنين، والثني ابن خمس. وتقدير هذه الأسنان بما قلنا يمنع النقصان، ولايمنع الزيادة، حتى لو ضحى بأقل من ذلك شيئاً لايجوز، ولو ضحى بأكثر من ذلك شيئاً يجوز ويكون أفضل".  

(کتاب الأضحیة، الباب الخامس في بيان محل إقامة الواجب، ج:5، ص:297، دار الفكر بيروت)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144511101749
تاریخ27-05-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں