بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 ربیع الثانی 1448ھ 09 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بھانجی کے ساتھ ہم بستری کرنے پرماموں کے نکاح کا حکم

سوال

اگر بھانجی کے  ساتھ ہم بستری کر لی تو نکاح کا کیا مسئلہ رہے گا؟

جواب

 واضح رہے کہ زنا کرنا سخت ترین گناہ اور حرام ہے،اور پھر خصوصًا  اپنی بھانجی جو بیٹی کی طرح ہوتی ہے، اس کے ساتھ زنا کرنا اس کی قباحت اور شناعت اور بھی زیادہ ہے،محرم سے زنا کرنے والے  کے بارے میں کفایت المفتی میں ہےکہ:

" شریعت محمد یہ میں اس پر حد زنا لازم ہے، لیکن اقامت حدود کا زمانہ نہیں ہے، اس لیے مسلمانوں کو لازم ہے کہ زجر اًو توبیخاًایسے شخص سے تعلقات اسلامیہ سلام کلام ،مخالطت و غیرہ ترک کر دیں اور جب تک وہ تو بہ نہ کرے اور اس کی توبہ کا خلوص قرائن سے معلوم نہ ہو جائے ،اس وقت تک اس سے مجانبت قائم رکھیں۔ واللہ اعلم بالصواب. "

( کتاب الحدود والجنایات،  221/2، ط: دارالاشاعت، کراچی)

لہذا  دونوں پر صِدق دِل سے توبہ کرنا لازم ہے، اور آئندہ دونوں خلوت میں  بالکل ساتھ نہ رہیں، البتہ  اس سے ان کےنکاح پر کوئی اثر نہيں  پڑے گا۔

الزواجر عن إقتراف الكبائر ميں  ہے:

" و أعظم ‌الزنا على الإطلاق ‌الزنا ‌بالمحارم."

( کتاب الحدود، الکبیرۃ الثامنة والخمسون بعد الثلاث مائة الز نا، 226/2، ط: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144511101737
تاریخ27-05-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں