بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 جُمادى الأولى 1448ھ 22 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

منرل واٹر سپلائی کرنے والی کمپنی کا بوتل کی بطور سکیورٹی لی گئی رقم کے استعمال کا حکم

سوال

منرل پانی والے گھروں اور   دفاتر میں پانی سپلائی کرتے ہیں اور بوتل کی سیکیورٹی کے طور پر کچھ رقم لیتے ہیں ،اس رقم کا استعمال کمپنی والوں کے لیے جائز ہے یا نہیں  ؟اس کی جائز صورت کیا ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں منرل پانی سپلائی کرنے والی کمپنی  کا بوتل کی سیکورٹی کے طور پر رقم لینااور اس کا استعمال کرنا جائز ہے۔

اِس کی حیثیت ابتداءً امانت کی ہے اور انتہاءً قرض کی، لہذا جس طرح کسی  سے قرض وصول کر کے اُس کا استعمال کرنا جائز ہے، اسی طرح  (ضرورت اور تعامل الناس کی وجہ سے) سیکیورٹی ڈپازٹ  کی مد میں رقم وصول کرنا اور اُس کا استعمال کرنا جائز ہے۔

الوسیط فی شرح القانون المدنی  میں ہے:

"و قد يودع مبلغ من النقود أو شيئ آخر مما يهلك بالإستعمال و يكون المودع عنده مأذونا له في إستعماله فلا يرده بالذات و لكن يرد مثله ،و هذه هي الوديعة الناقصة و هي تعتبر قرضا."

(عقد الوديعة، الفصل الأول أركان الوديعة، الفرع الثاني :المحل و السبب في عقد الوديعة، الأشياء التي يجوز إيداعها، ج:7، الجزء الأول، ص:  698، ط: دار إحياء التراث العربي)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144511101602
تاریخ26-05-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں