بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جڑواں بچوں میں نفاس کی مدت کب سے شمار ہوگی؟

سوال

کسی عورت کے دو بچے پیدا ہوئے ،جس میں دوسرا بچہ دو مہینے بعد پیدا ہوا، اب یہ عورت ایک مدتِ نفاس گزارے گی یا دو الگ الگ ؟

جواب

صور تِ مسئولہ میں عورت کی مدت نفاس پہلے حمل سے شمار ہوگی،اوردوسرے حمل کے بعدجو خون دیکھا جاۓ،اس کو استحاضہ شمار کیا جاۓگا۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"ونفاس التوأمين من الأول. كذا في الكافي وشرط التوأمين أن يكون بين الولدين أقل من ستة أشهر وإذا كان بينهما ستة أشهر أو أكثر فهما حملان ونفاسان."

(کتاب الطہارۃ،الفصل الثانی فی النفاس،37/1،ط:دار الفکر بیروت)
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144511101569
تاریخ25-05-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں