بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قبر کی کھدائی کے دوران نکلنے والے سانپ کا کیا حکم ہے؟

سوال

قبر کی کھدائی کے دوران سانپ یا بچھو نکل آئے تو کیا کرنا چاہیے؟

جواب

قبر کی کھدائی کے دوران سانپ یا بچھو نکل آئےتواسے مار دینا چاہیے۔

سنن الترمذي میں ہے:

١٤٨٣ - "حدثنا قتيبة قال: حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن سالم بن عبد الله، عن أبيه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «اقتلوا الحيات، واقتلوا ذا الطفيتين، والأبتر، فإنهما يلتمسان البصر، ويسقطان الحبلى» ..." هذا حديث حسن صحيح

ترجمہ:" حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "سانپوں کو مارو، خاص طور سے اس سانپ کو مارو جس کی پیٹھ پہ دو لکیریں ہوتی ہیں، اور اس سانپ کو جس کی دم چھوٹی ہوتی ہے؛ اس لیے کہ یہ دونوں بینائی کو زائل کر دیتے ہیں اور حمل کو گرا دیتے ہیں۔"

(أبواب الأحكام والفوائد، باب ما جاء في قتل الحيات، ٤ / ٧٦، ط: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي - مصر)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144511101476
تاریخ25-05-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں