بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قربانی کی گائےکی عمر مکمل دو سال ہونا ضروری ہے

سوال

 گاۓ کی عمر میں دو سال میں صرف ایک دن کم ہو تو کیا اس کی قربانی جائز ہے؟یعنی وہ گاۓ عیدالاضحی کے دوسرے دن پیدا ہوئی ہے اور ایک عید کو چھوڑکردوسرےسال عید کے پہلے دن اس کی قربانی جائز ہے یا دوسرے تیسرے دن کا انتظار کرنا پڑے گا؟

جواب

واضح رہےکہ قربانی کی گائے کی عمر کا  پورے دو سال ہونا ضروری ہے، اگرا یک دن بھی کم  ہوگا تو قربانی کرنا جائز نہیں ہو گا ، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں  جب گائے عید کے دوسرے دن پیدا ہوئی، تو دو سال بعد عید کے پہلے دن  اس کی قربا نی  کرنا جائز نہیں،   تیسرے دن  کا انتظار کرے  پھر قربانی کرے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"(وأما سنه) فلا يجوز شيء مما ذكرنا من الإبل والبقر والغنم عن الأضحية إلا الثني من كل جنس وإلا الجذع من الضأن خاصة إذا كان عظيما، وأما معاني هذه الأسماء فقد ذكر القدوري أن الفقهاء قالوا: ‌الجذع ‌من ‌الغنم ابن ستة أشهر والثني ابن سنة والجذع من البقر ابن سنة والثني منه ابن سنتين والجذع من الإبل ابن أربع سنين والثني ابن خمس، وتقدير هذه الأسنان بما قلنا يمنع النقصان، ولا يمنع الزيادة، حتى لو ضحى بأقل من ذلك شيئا لا يجوز، ولو ضحى بأكثر من ذلك شيئا يجوز ويكون أفضل، ولا يجوز في الأضحية حمل ولا جدي ولا عجول ولا فصيل."

(كتاب الأضحية، الباب الخامس في بيان محل إقامة الواجب، ج:5، ص:297، ط: دار الفكر)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144511101461
تاریخ24-05-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں