بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سودی قرض کے لین دین کا حکم

سوال

ایک آدمی نے گاڑی خریدی ایک لاکھ دس ہزار درہم پر، جس میں بیس ہزار اس نے جمع کیے، باقی نوے ہزار بینک نے شوروم والوں کو جمع کرائے، اب یہ آدمی بینک کو ایک لاکھ چار ہزار روپے جمع کریں گے قسطوں پر، آیا یہ سود ہے یا نہیں ؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ معاملہ سودی معاملہ ہے،  سودی معاملات کرنا یا اس میں کسی قسم کی معاونت کرنا سب ناجائز اور حرام ہے، کسی مسلمان کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ بالواسطہ یا بلاواسطہ سودی معاملہ کرے، لہذا فی الفور مذکورہ عقد کو ختم کیا جائے۔

حدیث شریف میں ہے:

"عن جابر، قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا، وموكله، وكاتبه، وشاهديه، وقال: هم سواء."

( صحیح مسلم، كتاب المساقاة، باب لعن آكل الربا ومؤكله،ج: ۳، صفحہ:۱۲۱۹، رقم الحدیث: ۱۵۹۸، ط: دار إحياء التراث العربي)

شرح النووی علی المسلم میں ہے:

"وفي هذا الحديث من الفقه التباعد من أهل الظلم والتحذير من مجالستهم ومجالسة البغاة ونحوهم من المبطلين لئلا يناله ما يعاقبون به وفيه أن من ‌كثر ‌سواد ‌قوم جرى عليه حكمهم في ظاهر عقوبات الدنيا."

(‌‌كتاب الفتن وأشراط الساعة، ج: ۱۸، صفحہ: ۷، صفحہ: ۷، ط: دار إحياء التراث العربي)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144511101195
تاریخ21-05-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں