بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بے نمازی کو قربانی میں شریک کرنے کا حکم

سوال

قربانی میں بے نمازی کو شریک کرسکتے ہیں ، جو بالکل نماز کا پابند نہ ہو ؟

جواب

بے نمازی کی آمدن اگر حلال ہے تو اس  کو قربانی میں شریک  کرسکتے ہیں اور اس کے شریک ہونےسے بھی سب کی قربانی ہو جائے گی، بشرطیکہ کہ نیت اللہ تعالیٰ کی رضا ہو گوشت کھانا مقصد نہ ہو۔

در مختار میں ہے :

"وشرعا (ذبح حيوان مخصوص بنية القربة في وقت مخصوص. وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر) كما مر (لا الذكورة فتجب على الأنثى) خانية (وسببها الوقت) وهو أيام النحر."

(کتاب الاضحیۃ،ج:6،ص:312،سعید)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144511101177
تاریخ21-05-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں