بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نمازی کا قرآن مجید کو آگے رکھ کر نماز پڑھنے کا حکم

سوال

 میں روزانہ فجر کی نماز سے پہلے قرآن مجید  کی تلاوت کرتا ہوں، کبھی کبھی نماز تیار ہو جاتی ہے تو میں جلدی میں اپنے سامنے رکھ دیتا ہوں ،ہماری مسجد میں قرآن مجید کی سیف تھوڑی دور ہے، فرض نماز کے بعد میں دعا اور ذکر اذکار کرتا ہوں ، روزانہ ایک جماعتی کہتا ہے کہ پہلے قرآن مجید کی تلاوت کرو یا قرآن پاک رکھ کر آؤ، راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

صورت ِ مسئولہ میں قران پاک رکھنے کی الماری دور ہونے کی وجہ سے سائل کا نمازکے وقت  قرآن پاک کو آگے کسی اونچی جگہ پررکھ کر نماز پڑھنا جائز ہے ،ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

إتحاف الزائر میں ہے:

"جواز ‌الصلاة ‌إلى ‌المصحف إذا كان موضعه، ولم يجعل هناك ليصلي إليه."

(‌‌‌‌فصل يستحب للزائر أن يتتبع المواضع،ذكر أسطوان المصحف،ص:150، ط: شركة دار الأرقم بن أبي الأرقم)

فتاوی رشیدیہ میں ہے:

"(سوال) آگر قران شریف پڑھ کر سامنے رکھ دے اور پھر نماز پڑھے تو کوئی حرج ہے یا نہیں، ایک شخص کہتا ہے کہ نماز میں کراہت آجاتی ہے ؟(جواب )اگر آگے قران شریف رکھا ہو تو نماز میں کوئی حرج نہیں ہے ۔فقط ۔"

(کتاب الصلاۃ، ص:345،ط:عالمی مجلس تحفظ اسلام کراچی)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144511101140
تاریخ21-05-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں