بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قد بڑھانے کے لیے وظیفہ

سوال

قد بڑھانے  کے لیے کوئی وظیفہ  بتائیں؟

جواب

قد بڑھانےکےسلسلےمیں کسی مستند  معالج سےمشورہ کرناچاہیے،  البتہ  بچے کی نشو و نما  کےلیےاس کےوالدین درج  ذیل وظیفہ  اختیار کرسکتے ہیں:

جب بچےکی عمر17دن سے بڑھ جائےتو یہ آیات[ الَّذِي أَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ وَبَدَأَ خَلْقَ الإِنسَانِ مِنْ طِينٍ (7) ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهُ مِنْ سُلالَةٍ مِنْ مَاءٍ مَهِينٍ (8) ثُمَّ سَوَّاهُ وَنَفَخَ فِيهِ مِنْ رُوحِهِ وَجَعَلَ لَكُمْ السَّمْعَ وَالأَبْصَارَ وَالأَفْئِدَةَ قَلِيلاً مَا تَشْكُرُونَ (9)]کسی شیشےکےبرتن میں لکھ کر بارش کےپانی سےدھویاجائےاورپھریہ پانی دوحصوں میں تقسیم کرکےایک حصہ  بچےکےکھانےکی چیزمیں ملایاجائےاورایک حصہ بوتل میں ڈال کرسات دن تک اس میں سےبچےکوپلایاجائے، ان شاء اللہ خوب نشو ونماہوگی۔

اعمال قرآنی میں ہے:

"آیت الَّذِي أَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُسےتَشْكُرونَ تک(پارہ21 رکوع 14)"جب بچےکوپیداہوئےسترہ دن گزرجائیں ان کوشیشہ کےبرتن میں لکھ کرآب باراں سےدھوکردوحصےکرکےایک حصہ اس بچےکےکھانےکی چیز میں ملادےاورایک حصہ بوتل میں رکھ چھوڑدیں اورسات روز تک اس میں سےبچے کوپلائیں اور اس کےمنہ ملیں ان شاء اللہ خوب نشوونماہو۔"

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144511100988
تاریخ19-05-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں