بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عدت میں والدہ کی عیادت کو جانا

سوال

ایک عورت عدت میں ہے، اور اس کی امی کی طبیعت خراب ہے، کیا وہ اس سے ملنے جا سکتی ہے  ؟

جواب

عورت کے لیے عدت میں والدہ کی عیادت کے لیے جانا جائز نہیں، اگر  والدہ کو مستقل تیمارداری اور خدمت کی ضرورت ہو اور کوئی اور ان کی بیمار پرسی کےلیے موجود نہ ہو تو عدت گزارنے والی بیٹی ان کو اپنے پاس بلا لے، خود ان کے پاس نہ جائے، تاکہ عدت کی پابندی پر بھی عمل ہوجائے اور والدہ کی خدمت بھی ہوجائے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولايخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لاتجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه."  

(3/ 536، كتاب الطلاق ، باب العدة، ط: سعيد)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144511100928
تاریخ19-05-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں