بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سنار کا مردوں کو سونے کی اشیاء بنا کر دینے کا حکم

سوال

سونا مرد پر حرام ہے ، ہم دوکاندار ہیں ،گاہک(مرد) ہم سے انگوٹھی یا کوئی اور چیز اپنے استعمال کے لیےبنواتا ہے تو ہمارا کام ہے گاہک کو چیز بنا کر دینا تو اس میں (دوکاندار) تو گناہ گار نہیں ہوگا ؟

جواب

واضح رہے کہ  مردوں کو سونا بیچنا جائز ہے ،ہاں اگر یہ بات معلوم ہو کہ یہ مرد اپنے استعمال کے لیے ہی بنوا رہا ہے  تو    یہ معصیت   پر   اعانت  کی وجہ سے مکروہ ہوگا ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وبيع المكعب المفضض للرجل إن ليلبسه يكره، لأنه إعانة على لبس الحرام وإن كان إسكافا أمره إنسان أن يتخذ له خفا على زي المجوس أو الفسقة أو خياطا أمره أن يتخذ له ثوبا على زي الفساق يكره له أن يفعل لأنه سبب التشبه بالمجوس والفسقة اهـ۔"

(کتاب الحظر والاباحۃ،ج:6،ص:392،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144511100842
تاریخ18-05-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں