بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نکاح کی تاریخ کیا مقرر کی جائے؟

سوال

نکاح کی تاریخ رکھنے کا اسلامی طریقہ کار کیا ہے؟

جواب

نکاح کے لیے شریعت نے کوئی خاص  مہینہ اور کوئی خاص تاریخ مقر ر نہیں فرمائی،بلکہ فریقین کو  جس میں سہولت ہو اس پر اتفاق کرلیا جائے۔البتہ جمعہ کے دن  عصر کے بعد نکاح  کو مقررکرنازیادہ بہتر ہے ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"ويندب ‌إعلانه وتقديم خطبة وكونه في مسجد يوم جمعة بعاقد رشيد وشهود عدول، والاستدانة له والنظر إليها قبله، وكونها دونه سنا وحسبا وعزا، ومالا وفوقه خلقا وأدبا."

(كتاب النكاح، ج: 3، ص: 8، ط: دار الفكر بيروت)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144511100189
تاریخ11-05-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں