بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کرنٹ اکاؤنٹ کاحکم

سوال

کرنٹ اکاؤنٹ کھولنا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں کسی بھی بینک میں بلاضرورت  کوئی بھی اکاؤنٹ کھولنے سے اجتناب کرنابہتر ہے، تاہم اگر ضرورتِ شدیدہ اور مجبوری ہو، رقم کی حفاظت کا اور کوئی دوسرا مناسب انتظام نہ ہو تو کسی بھی بینک میں  کرنٹ اکاؤنٹ کھولنے کی اجازت اور گنجائش ہے۔

الأشباه والنظائرمیں ہے:

’’الأولى: الضرورات تبيح المحظورات ... الثانية: ما أبيح للضرورة يقدر بقدرها.‘‘

(الفن الأول ،القاعدۃ الخامسة الضرريزال،ص:87،ط:قديمي كتب خانه)

کفایت المفتی میں ہے:

’’حفاظت کی معتمد صورت نہ ہو تو بینک میں جمع کرادینا مباح ہے۔‘‘

(  كتاب الرباء، پہلا باب بينك كے معاملات ،ج:7، ص:102، ط:دار الاشاعت) 

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144511100064
تاریخ09-05-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں