بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حالتِ حیض میں طلاق ہوئی تو عدت کیسے گزارے؟

سوال

اگر کوئی شخص حالت حیض میں بیوی کو طلاق دے دے، تو بیوی عدت کیسے گذارے گی؟اگر اس حیض کو جس میں طلاق دی ہے عدت شمار کیا جائے تو "ثلاثہ قروء" پر عمل نہیں ہوگا، اگر اس حیض کو عدت شمار نہ کیا جائے تو عدت طویل ہوجائے گی؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں جس حیض میں طلاق دی گئی ہے وہ حیض عدت میں شمار نہیں ہوگا، اس کے بعد مکمل تین حیض عدت گزارنا لازم ہوں گے۔

قرآن مجید میں ہے:

"قال اللہ تعالیٰ: وَالْمُطَلَّقاتُ یَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِہِنَّ ثَلاثَةَ قُرُوءٍ (سورة البقرة، پ:30آیتھ228)"

"ترجمہ :اور طلاق دی ہوئی عورتیں اپنے آپ کو (نکاح سے) روکے رکھیں تین حیض تک۔"

فتاوی ہندیہ میں ہے : 

"إذا طلق امرأته في حالة الحيض كان عليها الاعتداد بثلاث حيض كوامل ولاتحتسب هذه الحيضة من العدة، كذا في الظهيرية."

(کتاب الطلاق ،ج:1،ص:527،ط: دارالفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144511100061
تاریخ09-05-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں