بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سالی سے بوس وکنار کرنے کاحکم

سوال

دس بارہ سال پہلے کی بات ہے کہ میری ایک سالی ہے ،میں نے اس کے ساتھ بوس  وکنار کیا تھا،لیکن بد فعلی نہیں کی تھی،توکیا اس صورت میں میری بیوی مجھ پے حرام ہوگی کہ نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ سالی اجنبیہ کے حکم میں ہے،اس سے بوس وکنار یا ناجائز تعلقات قائم کرنا حرام ہے،اس قبیح وحرام فعل پر توبہ واستغفار لازم ہے،البتہ اس ناجائز تعقات سے نکاح نہیں ٹوٹتا،سائل کا اپنی بیوی سے نکاح برقرار ہے۔

درمختارمیں ہے:

"وفي الخلاصة: وطئ أخت امرأته لا تحرم عليه امرأته".

(كتاب النكاح،فصل في المحرمات، ج:3، ص:34، ط:سعيد)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144510102302
تاریخ08-05-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں