بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دوسرے کے لیے مال خریدنے پر کمیشن لینے کا حکم

سوال

میں ایک کنکریٹ پروڈکٹ بنانے والی فیکٹری  میں کام ہے ،میرا کام سیلز کے ساتھ فیکٹری کے تمام معاملات سنبھالنا ہے، فیکٹری میں مخصوص پروڈکٹ بیچنے کے لیے موجود ہیں جن کو ہم سیل کرتے ہیں، دوران سیل کچھ خریدار ایسی پروڈکٹ مانگتے ہیں جو ہم نہیں بناتے، سوال یہ ہے کہ ہم اور فیکٹریوں (جو اور چیزیں بناتی ہیں) سے ان خریداروں کو حوالے کر کے اس پروڈکٹ پر کمیشن کی ڈیمانڈ کر کے وصول کر سکتے ہیں؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں سائل کا کسٹمر کے لیے دوسری فیکٹریوں سے مال خرید نے پر  کمیشن طے کرکے اس  کا مطالبہ کرنا اور اس کو وصول  کرنا شرعاًجائز ہے ۔

فتاوی شامی میں ہے :

"مطلب في أجرة الدلال [تتمة]

قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة."

(کتاب الاجارۃ،ج:6،ص:63،سعید)

فقط واللہ اعلم 

 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144510102246
تاریخ07-05-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں