بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امام صاحب بے ہوش یا فوت ہوجائے مقتدی کے لیے بقیہ نماز ادا کرنے کا حکم

سوال

امام صاحب نماز میں بے ہوش ہوجائےیافوت ہوجائے مقتدی بقیہ نماز کیسے ادا کریں؟

جواب

نماز میں امام صاحب بےہوش ہوجائیں یا انتقال کر جائیں،  اس سے مقتدیوں کی نماز باطل ہوجائے گی، سب نماز دوبارہ پڑھیں گے۔لہذانائب امام کو آگے بڑھا کر نماز دوبارہ پڑھی جائے۔

فتاوی شامی میں ہے:  

"من المفسدات ارتداد بقلبه وموت وجنون وإغماء، وكل موجب لوضوء أو غسل وترك ركن بلا قضاء. (قوله: وموت) أقول: تظهر ثمرته في الإمام لو مات بعد القعدة الأخيرة بطلت صلاة المقتدين به، فيلزمهم استئنافها...... ألا ترى أنه لو مات أو أغمي عليه إغماء طويلا، أو جن جنونا مطبقا أو حاضت المرأة في آخر الوقت يسقط كل الصلاة، فإذا سافر يسقط بعض الصلاة اهـ فافهم."

(باب مایفسد الصلاة و مایکرہ فیھا، ج: 1، ص: 629، ط: ایچ ایم سعید )

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144510102208
تاریخ07-05-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں