بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جہاد کا حکم کب نازل ہوا؟

سوال

جہاد کب فرض ہوا ہے؟

جواب

 جب مسلمانوں نے مکہ سے مدینے کی طرف ہجرت کی تو سورۃ الحج کی آیت نمبر۳۹  جہاد کی اجازت کے لیے  نازل ہوئی ۔
چناں چہ (اکثر مفسرین کی رائے کے مطابق)مذکورہ آیت جہاد  کی اجازت کے بارے میں نازل ہونے والی پہلی آیت ہے ۔

روح المعانی میں ہے:

"فقد نقل الواحدي وغيره أن المشركين كانوا يؤذونهم وكانوا يأتون النبي عليه الصلاة والسلام بين مضروب ومشجوج ويتظلمون إليه صلوات الله تعالى وسلامه عليه فيقول لهم: اصبروا فإني لم أومر بالقتال حتى هاجر فأنزلت هذه الآية وهي أول آية نزلت في القتال بعد ما نهى عنه في نيف وسبعين آية على ما روى الحاكم في المستدرك عن ابن عباس رضي الله تعالى عنهما وأخرجه عبد الرزاق وابن المنذر عن الزهري."

(سورۃ الحج،ج9،ص154،ط؛دار الکتب العلمیۃ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144510102032
تاریخ06-05-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں