بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد میں کپڑے سکھانے کا حکم

سوال

مسجد میں کپڑے سکھانے کا کیا حکم ہے؟

جواب

مسجد کی تعمیر کا مقصد خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے، اس لیے مسجد  میں کپڑے لٹکا کر یا بچھاکر سکھانا مسجد کے آداب کے خلاف ہے، لہٰذا  مسجد  میں کپڑے سکھانے سے احتراز کرنا چاہیے، البتہ سخت مجبوری اور متبادل جگہ کا انتظام نہ ہونے کی صورت میں جماعت کی نمازوں کے اوقات کے علاوہ کسی وقت میں مسجد کی شرعی  حدود سے باہر کسی جگہ (مثلا وضو خانے وغیرہ) میں کپڑے سکھانے کی گنجائش ہوگی۔

البحرائق میں ہے:

"ولا يجوز أن تعمل فيه الصنائع ‌لأنه ‌مخلص ‌لله ‌تعالى فلا يكون محلا لغير العبادة غير أنهم قالوا في الخياط إذا جلس فيه لمصلحته من دفع الصبيان وصيانة المسجد لا بأس به للضرورة ولا يدق الثوب عند طيه دقا عنيفا."

(كتاب الصلاة، 2/ 38، ط:دار الکتاب الإسلامي)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144510101934
تاریخ05-05-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں