بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک ہی شخص کا مستقل امام اور مؤذن بننے کا حکم

سوال

کیا ایک ہی شخص مستقل مؤذن اور امام بن سکتا ہے؟  ہمارے امام صاحب کہتے ہیں کہ امام کے  لیے مستقل مؤذن بننا شرعاً درست نہیں !

جواب

ایک ہی شخص کا مستقل امام اور مؤذن بننا جائز  ہے، تاہم مسجد کے انتظامی معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے امام اور مؤذن الگ الگ مقرر کیا جائے تو بہتر ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"الأفضل كون الإمام هو المؤذن. وفي الضياء "أنه عليه الصلاة والسلام أذن في سفر بنفسه وأقام وصلى الظهر"وقد حققناه في الخزائن ...

(قوله: الأفضل إلخ) أي لقول عمر رضي الله عنه: لولا الخلافة لأذنت: أي مع الإمامة كما قدمناه. وفي السراج أن أبا حنيفة كان يباشر الأذان والإقامة بنفسه."

(کتاب الصلاۃ،باب الاذان،401/1،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144510101846
تاریخ04-05-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں