بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سِیَر کا معنی کیا ہے؟

سوال

سیر جنگ کیا ہیں؟

جواب

"سِیَر"   سیرۃ کی جمع ہے، اس کا لغوی معنی ہے: "طریقہ" اور شریعت کی اصطلاح میں اس کا معنی ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جہاد کا طریقہ، لیکن شرعاً اس کا استعمال امورِ جہاد پر ہی ہوتا ہے۔

العنایۃ شرح الہدایہ میں ہے:

"‌‌(كتاب السير) السير جمع سيرة، وهي الطريقة في الأمور، وفي الشرع تختص بسير النبي - عليه الصلاة والسلام - في مغازيه.

(والسير جمع سيرة) وهي فعلة من السير (وهي الطريقة في الأمور. وفي الشرع تختص بسير النبي - صلى الله عليه وسلم - في مغازيه) قال في المغرب: أصل السيرة حالة السير، إلا أنها غلبت في لسان الشرع على أمور المغازي وما يتعلق بها كالمناسك على أمور الحج، والمغازي جمع المغزاة من غزوت العدو قصدته للقتال، وهي الغزوة والغزاة والمغزاة."

(كتاب  السير، ج:5، ص:434، ط:دار الفكر)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144510101410
تاریخ29-04-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں