بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ کی عدت کے خرچے کا حکم

سوال

اگر بیوی کا شوہر فوت ہو جاۓ تو دوران عدت بیوی کو خرچہ کون دے گا؟

جواب

بيوه عدت کے دوران اپنا خرچہ خود برداشت کرے گی ،شوہر کی میراث سے جو حصہ ملا ہے اس سے نفقہ کا انتظام کرے،اگر وہ ناکافی ہو تو کوئی اوررشتہ دار اس کا انتظام کرے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"‌لا ‌نفقة ‌للمتوفى عنها زوجها سواء كانت حاملا، أو حائلا إلا إذا كانت أم ولد، وهي حامل فلها نفقة من جميع المال كذا في السراج الوهاج."

(کتاب الطلاق،الباب السابع عشر فی النفقات،ج:1،ص:558،دارالفکر)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144510101379
تاریخ29-04-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں