بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کپڑوں پر پیشاب کے چھینٹے لگنے سے نماز کا حکم

سوال

دوران ڈیوٹی اگر کپڑوں پر پیشاب کے چھینٹے پڑ جائیں تو اس میں نماز پڑھ سکتے ہیں؟

جواب

 اگر پیشاب کے چھینٹے اتنی مقدار میں ہیں کہ ان کو ملایا جائے تو ایک درہم  کے برابر یا زیادہ  ہو جائیں گے، تو ایسے  کپڑوں میں نماز نہیں ہو  گی، اور اگر  اس سے کم کم ہو تو نماز تو ہو جائے گی   مگر مکروہ ہے۔  البتہ بہر صورت کپڑوں کو دھونا اور پاک کرنا ضروری ہے۔ 

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وهي نوعان (الأول) المغلظة وعفي منها قدر الدرهم واختلفت الروايات فيه والصحيح أن يعتبر بالوزن في النجاسة المتجسدة وهو أن يكون وزنه قدر الدرهم الكبير المثقال وبالمساحة في غيرها وهو قدر عرض الكف . هكذا في التبيين والكافي وأكثر الفتاوى والمثقال وزنه عشرون قيراطًا وعن شمس الأئمة يعتبر في كل زمان بدرهمه والصحيح الأول. هكذا في السراج الوهاج."

(كتاب الطهارة، الباب السابع فى النجاسة، الفصل الثاني في الأعيان النجسة، ج:1، ص:45، ط:مكتبه رشيديه)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144510101370
تاریخ29-04-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں