بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گھڑی دونوں ہاتھ میں پہن سکتے ہیں

سوال

گھڑی کو دائیں ہاتھ میں پہننا چاہیے یا بائیں ہاتھ میں؟

جواب

شرعی اعتبار سےگھڑی پہننے میں کسی ہاتھ کی تعیین  نہیں، اپنی سہولت کے مطابق جس ہاتھ میں چاہیں  پہن سکتے ہیں ، البتہ اکثر  خیر  کی چیزوں میں   آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں سمت کو ترجیح دی ہے،گھڑی بھی خیر کا ذریعہ ہے، کیوں کہ اس سے نماز وں کے اوقات معلوم ہوتے ہیں،اس لیے گھڑی بھی دائیں ہاتھ میں پہننا بہتر ہے ، البتہ اگر کوئی بائیں ہاتھ میں پہنے، تو بھی کوئی حرج نہیں ۔

بخاری شریف میں ہے:

"عن عائشة قالت: «كان النبي صلى الله عليه وسلم ‌يحب ‌التيمن ما استطاع في شأنه كله، في طهوره وترجله وتنعله»."

(كتاب الصلاة، ‌‌باب التيمن في دخول المسجد وغيره، ج:1، ص:93، رقم الحدیث:426، ط:دار طوق النجاة)

ترجمہ:حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جتنا ممکن ہو سکتا تھا اتنا اپنے ہر کام میں دائیں جانب سے ابتدا کرنے کو پسند کرتے تھے، مثلا: طہارت حاصل کرنے میں، اور کنگھی کرنے میں، اور جوتے پہنے ہیں ۔ (کشف الباری)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144510101189
تاریخ27-04-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں