بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صاحب ترتیب شخص سے وتر فوت ہو اور بھول کر نماز پڑھائے تو نماز کا حکم

سوال

 اگر صاحب ترتیب شخص سے وتر کی نماز چھوٹ گئی اور بھول کر اس نے اگلے دن ظہر کی جماعت کروائی اور نماز پڑھانے کے بعد اس کو یاد آیا کہ وتر تو چھوٹ گئے تو کیا ظہر کی پڑھائی ہوئی نماز ہو گئی یا نہیں؟ اور وتر تو ظہر کے بعد پڑھ بھی لیے۔

جواب

صورت مسئولہ میں  مذکورہ شخص نے ظہر کی نماز  اس حالت میں پڑھائی ہے کہ اس کو یاد نہیں تھا کہ اس کے ذمہ وتر کی فوت شدہ نماز  باقی ہے  اور نماز پڑھانے کے بعد اس کو یاد آیا تو  چوں کہ بھول کی وجہ سے ترتیب ساقط ہوجاتی ہے؛لہذا اس کی اور مقتدیوں کی ظہر کی نماز درست ہوئی ،دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"ثم الترتيب يسقط بالنسيان وبما هو في معنى النسيان، كذا في المضمرات ولو تذكر صلاة قد نسيها بعد ما أدى وقتيه جازت الوقتية، كذا في فتاوى قاضي خان."

(کتاب الصلاۃ،الباب الحادی عشر فی قضاء الفوائت،ج:1،ص:122،دارالفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144510101061
تاریخ25-04-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں