بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پیشہ ور بھکاری کو بھیک دینے کا حکم

سوال

بھکاری کو بھیک دینا جائز نہیں اکابر کیا فرماتے ہیں اس بارے میں رہبری فرمائیں؟

جواب

واضح رہے کہ  ایسے  مانگنے والے جن کے بارے میں علم ہو کہ یہ پیشہ ور بھکاری ہیں، ایسے افراد کو بھیک نہ دینے سے گناہ نہیں ملتا، بلکہ ان  کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے؛  تاکہ وہ باز آئیں، تاہم اس میں متکبرانہ انداز اختیار نہ کیا جائے، انہیں جھڑکا نہ جائے، بلکہ شائستگی کے ساتھ  معذرت کرلی جائے۔

صحيح مسلم  میں ہے:

" عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من سأل الناس أموالهم تكثرا، فإنما يسأل جمرا فليستقل أو ليستكثر."

(كتاب الزكات، ‌‌باب كراهة المسألة للناس، جلد 2 ص: 720 ط: دار احیاء التراث العربي)

ترجمہ:" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: جو آدمی اپنا مال بڑھانے کے لیے لوگوں سے سوال کرتاہے، وہ انگارا مانگتاہے، (اب اس کی مرضی ہے) چاہے تو کم مانگے یا زیادہ مانگے۔"

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144510100999
تاریخ25-04-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں