بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اگر دن میں دس بجے حیض آجائے تو دس دن کب ہوں گے؟

سوال

اگر کسی عورت کو ۵ تاریخ کو دن میں دس بجے حیض کا خون آیا، اور مسلسل ۱۲ دن تک آتا ہی رہا، تو اس کے دس دن کس وقت تک شمار ہوں گے، یعنی ۵ تاریخ کا پورادن ناپاکی میں شمار ہوگا یا ۵ تاریخ کے بعد سے وقت شمار ہوگا ؟ عورت کی سابقہ عادت دس دن کی ہے۔

جواب

5  تاریخ  صبح دس بجے کے بعد سے عورت نا پاک شمار ہوگی،یعنی  5 تاریخ کا دن ناپاکی میں شمار ہوگا،اس حساب سے پورے دس دن 15 تاریخ صبح دس بجے مکمل ہوں گے۔

مراقی الفلاح ميں هے :

"أقل ‌الحيض ثلاثة وأكثره عشرة وأقل ما بين الحيضتين خمسة عشر يومًا و لا حد لأكثره" لأنه قد يمتد أكثر من سنة."

(کتاب الطہارہ،باب الحیض والنفاس،ص:61،ط:المكتبة العصرية) 

فتاوی شامی میں ہے:

"و (أقله ثلاثة بلياليها) الثلاث، فالإضافة لبيان العدد المقدر بالساعات الفلكية لا للاختصاص، فلا يلزم كونها ليالي تلك الأيام؛ وكذا قوله (وأكثره عشرة) بعشر ليال، كذا رواه الدارقطني وغيره."

(کتاب الطہارہ،باب الحیض،ج:1،ص:283،ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

"فلو رأته في أول النهار يكمل كل يوم بالليلة المستقبلة، ولذا صرح الشارح بلفظ الثلاث، فالتفريع عليه ظاهر فافهم (قوله بالساعات) وهي اثنتان وسبعون ساعة، والفلكية هي التي كل ساعة منها خمس عشرة درجة وتسمى المعتدلة أيضا."

(کتاب الطہارہ،باب الحیض،ج:1،ص:284،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144510100942
تاریخ24-04-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں