بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مشائم نام رکھنے کا حکم

سوال

مشائم نام رکھنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

"مَشَائِم" شَأمٌ مادہ سے ماخوذ ہےعربی لغت میں اس لفظ کا معنی ہے بدشگونی کا آلہ یہ  نام بچی کے لیے منتخب کرنا درست نہیں ،بچی کے ناموں کےلئے بہتر یہ ہے کہ صحابیات رضی اللہ عنہن یا نیک خواتین کے ناموں میں سے کوئی بامعنی  نام رکھا جائے۔نیز جامعہ کی ویب سائٹ پر ناموں کی فہرست حروف تہجی کے اعتبار سے موجود ہےوہاں سے دیکھ کر بھی نام رکھ سکتے ہیں ۔

الہدایۃ الی بلوغ النہایۃ میں ہے:

"وقوله: {في أَيَّامٍ نَّحِسَاتٍ}.قال ابن عباس: نحسات: متتابعات. وقال مجاهد: نحسات: مشائم.وقال قتادة: نحسات: (مشائم نكدات).وقال ابن زيد: نحسات/ ذات شر، ليس فيها من الخير شيء.وقال الضحاك: نحسات: شداد."

(سورۃ فصلت , رقم الایۃ: 16 جلد 6 ص: 288 ط: دارالکتب العلمیة)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144510100854
تاریخ24-04-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں