بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کوا کھانے کا حکم

سوال

کوا کھانا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ کوے تین قسم کے ہوتے ہیں  (بعض فقہاء نے تین سے زیادہ قسمیں بھی بتائی ہیں ):

ایک وہ جو صرف مردار کھا تا ہے، ایسا کوا  کھانا حرام  وناجائز ہے ۔

 دوسرا وہ جو صرف دانہ کھاتا ہے ، یہ ’’حلال‘‘ ہے ۔( البتہ ایسا کوا  ہمارے ہاں شہروں میں نہیں پایا جاتا)۔

تیسرا وہ جو دانہ اور مردار دونو ں کھاتا ہے، اس کو ’’عقعق‘‘  کہتے ہیں ۔ امام ابو حنیفہ  رحمہ اللہ کے نزدیک  یہ بھی حلال ہے؛ کیوں کہ ان کے نزدیک یہ  مرغ کی طرح ہے (کہ دانہ و نجاست دونوں کھاتا ہے )  اور  امام ابو یوسف رحمہ اللہ   کے نزدیک یہ تیسری قسم مکروہ ہے ؛ کیوں کہ وہ زیادہ ترمردار کھاتا ہے ۔ مگر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ  کا مذہب احق ہے ۔(کذا فی فتاویٰ رحیمیہ، جلد 10، ص۷۷،  ناشر : دار الاشاعت اردو بازار کراچی پاکستان)

فتاوی شامی میں ہے:

"«قال في العناية: وأما الغراب الأبقع والأسود فهو أنواع ثلاثة: نوع يلتقط الحب و لايأكل الجيف وليس بمكروه. ونوع لا يأكل إلا الجيف وهو الذي سماه المصنف الأبقع وإنه مكروه. ونوع يخلط يأكل الحب مرة والجيف أخرى و لم يذكره في الكتاب، وهو غير مكروه عنده مكروه عند أبي يوسف اهـ والأخير هو العقعق كما في المنح وسيأتي»."

(کتاب الذبائح ج نمبر  6 ص نمبر 305،ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144510100696
تاریخ22-04-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں