بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کاحالتِ شہوت میں اپنی منی کا اخراج اور غسل ٹوٹ جانے کا حکم

سوال

اگر کسی عورت پر شہوت طاری ہو جائے اور وہ اپنی ٹانگوں کو ایک دوسرے پر رکھ کر اور رانوں کے مسلز کو آپس میں رگڑ کر منی کا اخراج کرے تو کیا یہ حرام ہے ؟اور اس سے غسل فرض  ہوجاتا ہے ؟

جواب

اسلام نے جنسی خواہشات کو مکمل کرنے کے لیے جو جائز راستے متعین کیے ہیں اِن ہی کو اختیار  کرنا چاہیے، باقی تمام  راستے ناجائز ہیں، ان کو قرآنِ عظیم میں حد سے تجاوز کرنا کہا گیا ہے؛ لہذا صورتِ  مسئولہ میں  عورت جائز طریقے کے علاوہ کسی بھی طریقے سے منی  کااخراج کرے تو یہ ناجائز ہےاور اس سے  غسل فرض ہو جاتا ہے۔

البحر الرائق میں ہے:

"ذكر العلامة الحلبي هنا تفصيلاً، فقال: والأولى أن يجب في القبل إذا قصد الاستمتاع؛ لغلبة الشهوة؛ لأن الشهوة فيهنّ غالبة فيقام السبب مقام المسبب وهو الإنزال دون الدبر لعدمه“.

(البحر الرائق،باب موجبات الغسل ، ج :1،ص:62، ط:دار الکتاب الاسلامی)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144510100631
تاریخ21-04-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں