روزے کی حالت میں دانت بھرائی کرنے کا حکم
سوال
کیا روزے کی حالت میں دانت کو پُر کرانا صحیح ہے یا نہیں؟
جواب
روزے کی حالت میں دانت کی بھرائی (فلنگ) کرانے سے روزہ تو نہیں ٹوٹے گا، لیکن اگر اس فلنگ کے اجزا یا اس دوران استعمال کی گئی دوا اور اس کے اجزا حلق میں چلے گئے یا مسوڑھوں سے خون نکلا اور تھوک پر غالب تھا اور حلق میں چلا گیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا، لہذا شدید ضرورت نہ ہو تو روزے میں اس سے اجتناب کیا جائے۔
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"الدم إذا خرج من الأسنان و دخل حلقه إن كانت الغلبة للبزاق لا يضره، و إن كانت الغلبة للدم يفسد صومه، و إن كانا سواء أفسد أيضا استحسانا."
(کتاب الصوم، الباب الرابع فیما یفسد الصوم ومالایفسد، ج:1، ص:203، ط:مکتبہ رشیدیہ)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

