بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں دانت بھرائی کرنے کا حکم

سوال

کیا روزے کی حالت میں دانت کو پُر کرانا صحیح ہے یا نہیں؟

جواب

روزے کی حالت میں دانت کی بھرائی (فلنگ) کرانے سے روزہ تو نہیں ٹوٹے گا، لیکن اگر اس فلنگ کے اجزا یا اس دوران استعمال کی گئی دوا اور اس کے اجزا حلق میں چلے گئے یا  مسوڑھوں  سے خون نکلا  اور  تھوک پر غالب تھا اور حلق میں چلا گیا تو  روزہ ٹوٹ جائے گا، لہذا شدید ضرورت نہ ہو تو روزے میں اس سے اجتناب کیا جائے۔ 

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"الدم إذا خرج من الأسنان و دخل حلقه إن كانت الغلبة للبزاق لا يضره، و إن كانت الغلبة للدم يفسد صومه، و إن كانا سواء أفسد أيضا استحسانا."

(کتاب الصوم، الباب الرابع فیما یفسد الصوم ومالایفسد، ج:1، ص:203، ط:مکتبہ رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509102442
تاریخ05-04-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں