بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

معتکف کا بھول کر مسجد سے نکل جانا

سوال

مسنون اعتکاف میں بھول کر مسجد سے نکل جانے سے اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے؟

جواب

معتکف کاشرعی وطبعی حاجت کے بغیر بھول کرمسجد کے باہر نکلنے سے بھی اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے، ایسی صورت میں اس پرایک دن کے اعتکاف کی قضا لازم ہوتی ہے، خواہ رمضان کے بقیہ دنوں میں سے کسی دن میں مغرب تا مغرب قضا اعتکاف کرلے، یا رمضان کے بعد  اگر اعتکاف کی قضا کرے تو  سال کے جن پانچ دنوں (عید الفطر کا دن، عید الاضحیٰ کا دن اور اس کے بعد متصل تین دن، یعنی ایامِ تشریق) کے علاوہ کسی بھی دن مغرب تا مغرب دن کےروزے کے ساتھ قضا کرنا ضروری ہے۔

الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین میں ہے:

"(فلو خرج) ولو ناسيا (ساعة) زمانية لا رملية كما مر (بلا عذر فسد) فيقضيه....."

(کتاب الصوم،باب الاعتکاف،ج2،ص447،ط؛سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509102441
تاریخ05-04-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں