بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تراویح پڑھانے کی اجرت لینا

سوال

کیا تراویح کی اجرت لینا امام کے لیے جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  فقہِ حنفی کے اُصول کےمطابق  نیکی کے کاموں پر اجرت لینا حرام  ہے، لیکن  متاخرین فقہاءِ کرام نے بوجہ ضرورت  درس و تدریس، اذان اور فرض نماز پڑھانے کی اجرت لینے کو جائز قرار دیا ہے؛ اس لیے محض تراویح میں قرآن سنانے  کی اجرت لینا جائز نہیں ۔

کفایت المفتی میں ہے:

"متأخرین فقہائے حنفیہ نے امامت کی اجرت لینے دینے کے جواز کا فتویٰ دیا ہے، پس اگر امام مذکور سے معاملہ امامت نماز سے متعلق ہوا تھا تو درست تھا، لیکن قرآنِ مجید تراویح میں سنانے کی اجرت لینا دینا جائز نہیں ہے، اگر معاملہ قرآن مجید  سنانے کے  لیے ہوا تھا تو ناجائز تھا ۔"

(کتاب الصلاۃ، ج3، ص410،ط؛دار الاشاعت )

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509102349
تاریخ02-04-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں