بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1448ھ 21 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نسوار لگانے کا حکم

سوال

جی میں نے نسوار کے نشے کے متعلق پوچھنا ہے ، کیا یہ جائز ہے یا حرام ؟  اور میں نے نسوار اللہ پاک سے وعدہ کر کے چھوڑ دی تھی، اب جب کسی کو نسوار ڈالتے دیکھتا ہوں تو اس کا دل کرتا ہے کہ میں بھی نسوار استعمال کروں ۔ احتمال ہے کہ میرا وعدہ ٹوٹ نہ جاۓ، وعدہ خلافی پر بہت سخت وعیدیں آئی ہیں، کیا اس وعدہ سے براءت کی بھی کوئی  صورت ہے یا اس کو ہر حال میں نبھایا جائے؟

جواب

واضح رہے کہ نسوار  چوں کہ تمباکو اور چونا وغیرہ سے بنتی ہے؛ لہٰذا اس کا استعمال تمباکو  کی طرح فی نفسہٖ مباح اور جائز ہے، البتہ نسوار کی بدبو سے (خاص کر مسجد میں) نمازیوں اور فرشتوں کو تکلیف ہوتی ہے؛ اس لیے نماز سے پہلے منہ اچھی طرح صاف کرنا چاہیے، اور  عام حالت میں بھی اس کا ترک کرنا ہی بہتر ہے۔

جہاں تک دعدہ کی بات ہے  تو  وعده كرتے وقت کیا  الفاظ استعمال کیےتھے؟ براہ کرم وضاحت فرمائیں۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"فإنه لم يثبت إسكاره ولا تفتيره ولا إضراره بل ثبت له منافع، فهو داخل تحت قاعدة الأصل في الأشياء الإباحة وأن فرض إضراره للبعض لايلزم منه تحريمه على كل أحد". 

(ج6، ص: 459، ط: سعيد)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"وسئل بعض الفقهاء عن أكل الطين البخاري ونحوه قال: لا بأس بذلك ما لم يضرّ، وكراهية أكله لا للحرمة بل لتهييج الداء".

 (ج5، ص: 341، ط: ماجديه)

فتاویٰ محمودیہ میں ہے:

"نسوار سے اگر نشہ ہوتا ہو تو وہ بھی ناجائز ہے ورنہ مضائقہ نہیں"۔

(ج18، ط: 388، ط: ادارۃ الفاروق)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509102242
تاریخ01-04-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں