بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اکتیسواں روزہ رکھنے کا حکم

سوال

بیٹا بیرون ملک سے عید منانے پاکستان آگیا، وہاں روزہ ایک دن پہلے شروع ہواہے، اب اگر پاکستان میں تیس روزے ہوتے ہیں تو بیٹے کے اکتیس  روزے ہوجائیں گے، تو کیا تیس روزے رکھے یا اکتیس ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص پر اکتیسواں روزہ رکھنا فرض نہیں ہے، اس لیے کہ قمری مہینہ تیس دن سے زیادہ کا نہیں ہوسکتا، البتہ دیگر روزہ داروں اور رمضان کے احترام میں یہ شخص بھی روزہ رکھ لے تو بہتر ہے۔

مبسوط سرخسی میں ہے:

"لأن الشهر لا يكون أكثر من ثلاثين يوما وعلى هذا روي عن محمد - رحمه الله تعالى - أنهم لو صاموا بشهادة الواحد على رؤية الهلال فصاموا ثلاثين يوما ثم لم يروا الهلال أفطروا؛ لأن الشهر لا يكون أكثر من ثلاثين يوما۔"

(المبسوط للسرخسي،كتاب الصوم،ج:٣، صفحة :78، ط: دار المعرفة، بيروت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509102189
تاریخ01-04-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں