بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد میں دورانِ اعتکاف ورزش کرنے کا حکم

سوال

مسجد میں دورانِ اعتکاف ورزش کرنا کیسا ہے؟

جواب

 اعتکاف کے دوران  مسجد میں ورزش کرنا خلافِ ادب ہے،  لہذا بلا عذر  مسجد میں ورزش کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے، البتہ کسی عذرکی وجہ سے (مثلاً کسی بیماری کے علاج کے لیے ماہر دیندار ڈاکٹر نے  ورزش  تجویز دی ہو)  ورزش  کرنا ہی پڑے توبھی حتی المقدور  مسجد کے آداب اور دوسرے لوگوں کا خیال رکھتے  ہوئےچپکے سے کریں۔ 

فتاویٰ  عالمگیری میں ہے:

"‌رجل ‌يمر في المسجد ويتخذ طريقا إن كان بغير عذر لا يجوز وبعذر يجوز."

(کتاب الصلاۃ، الباب الثامن في صلاة الوتر، ج:1، ص: 110، ط:المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر)

امداد الاحکام میں ہے :

"مسجد  میں ورزش خلافِ ادب ہے، لہذا زمانۂ اعتکاف میں اس کو ترک کردیں اگر تکلیف نہ ہو، اور اگر تکلیف زیادہ، ناقابلِ برداشت ہو تو بمجبوری خلوت کے وقت کرلیا کریں۔"

(ج 2 / ص 150)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509102180
تاریخ01-04-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں